میر تقی میر کو «خدائے سخن» کہا گیا، اور اس لقب کا سب سے بڑا جواز ان کا غم ہے۔ مگر یہ غم رونے دھونے کا نہیں۔
بیان کا اسلوب
میر کی سب سے بڑی خوبی ان کا لہجہ ہے۔ وہ اپنے دکھ کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرتے۔ ایک سادہ جملہ، اور بات ختم۔ یہی سادگی قاری کے دل پر اثر کرتی ہے۔
ذاتی سے آفاقی تک
میر کا زمانہ دہلی کی تباہی کا زمانہ تھا۔ ان کے یہاں ذاتی محرومی اور شہر کی بربادی ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا غم صرف ان کا نہیں رہتا۔
آج بھی میر کو پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ کوئی ہمارے ساتھ بیٹھا ہے — اور یہی شاعری کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔