اردو غزل کی سب سے بڑی قوت اس کی علامت ہے۔ یہ علامت کسی لغت میں درج نہیں ہوتی، بلکہ صدیوں کے استعمال سے آہستہ آہستہ اپنا مفہوم بناتی ہے۔ جب میر «دل» کہتے ہیں تو وہ محض ایک عضو نہیں رہتا، ایک پورا نظامِ احساس بن جاتا ہے۔
علامت اور روایت کا رشتہ
کلاسیکی غزل میں شمع، پروانہ، صحرا اور قفس جیسی علامتیں اس قدر مستعمل ہوئیں کہ ایک وقت آیا جب وہ اپنی معنوی تازگی کھونے لگیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب جدید غزل نے ان علامتوں کو توڑنے کا فیصلہ کیا۔
علامت وہ پل ہے جو شاعر کے داخل کو قاری کے داخل سے ملاتا ہے۔
جدید غزل کا رویہ
ناصر کاظمی اور خلیل الرحمٰن اعظمی کے یہاں علامت کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ اب صحرا صرف ہجر کا استعارہ نہیں رہتا، وہ تقسیم کے بعد کی بے گھری بن جاتا ہے۔ یہ تبدیلی محض لسانی نہیں، تہذیبی ہے۔
اس مطالعے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ غزل کی علامت ایک زندہ عضو ہے۔ جو شاعر اسے وراثت سمجھ کر قبول کر لیتا ہے، اس کے یہاں غزل دہرائو بن جاتی ہے؛ اور جو اسے اپنے تجربے کی آنچ پر دوبارہ ڈھالتا ہے، اسی کے یہاں غزل نئی ہوتی ہے۔