صوبوں میں گورنر راج کا رواج

ڈاکٹر شہباز حسین5 منٹ کا مطالعہ

صوبوں  میں گورنر راج کا رواج

            ان دنوں ہر گلی، کوچے اور چوراہے پر گورنر راج کی بہت بحث  سننے کو مل رہی ہے، کوئی اسے  مارشل لا سے تشبیہ دے رہا ہے تو کوئی اسے ڈکٹیٹر شپ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ اور۔۔۔ اس موضوع کو سمجھنے کے لیے تین اصطلاحات (گورنر راج، آئینی ایمرجنسی اور مارشل لا) میں فرق کرنا ضروری ہے۔ گورنر راج سے  مراد ایک ایسا نظام ہے  جس کے تحت کسی صوبے کے حکومتی اختیارات معطل یا محدود کرکے ان کا کنٹرول گورنر یا وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام لایا جاتا ہے۔آئینی ایمرجنسی میں ، کسی ہنگامی ، جنگی ، بیرونی جارحیت یا داخلی بد امنی کی صورت  میں آئین کی متعلقہ شقوں کے مطابق اختیارات کا استعمال ہے، جس میں فوج  اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ تیسری اصطلاح (مارشل لا) سے تو ہم  گزشتہ 70 سالوں سے ’’بخوبی واقف‘‘ ہیں، اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔

            پاکستان میں نافذ ہونے والے  گورنر راج کی   تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو  عیاں ہوتا ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں مختلف اوقات میں ، مجموعی طور پر 14 بار گورنر راج نافذ ہو چکا ہے۔ جس میں صوبہ پنجاب میں 3بار، صوبہ سندھ  میں 3 بار، صوبہ بلوچستان میں 4 بار، صوبہ خیبر پختونخواہ میں 4 بار (حالیہ سمیت)، لگ چکا ہے۔ صوبہ  پنجاب  کو دیکھا جائے تو   یہاں پہلا گورنر راج25 جنوری 1949ء  سے لے کر اپریل 1951ء تک نافذ رہا، جب وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے  پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ نواب افتخار حسین خان ممدوٹ کی حکومت کو برطرف کرکے  صوبائی اسمبلیوں کو بھی تحلیل کر دیا ۔  دوسرا   مشرف دورمیں اکتوبر 1999 میں لگا، جب  ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد منتخب صوبائی حکومتوں کا نظام ختم ہوگیا  اور صوبے گورنروں کے زیرِ انتظام چلے گئے۔ تیسرا  25 فروری تا 30مارچ 2009 تک رہا، جب  نواز شریف اور شہباز شریف کی سپریم کورٹ کی طرف سے نااہلی کے بعد،   سلیمان تاثر نے پنجاب  کی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

             اسی طرح  صوبہ سندھ میں  پہلا گورنر راج اس وقت لگا جب   دسمبر 1951 میں وزیرِ اعلیٰ محمد ایوب کھوڑو کو برطرف کر کے صوبے کی آئینی ذمہ داریاں  میاں امین الدین کو سونپ دی گئیں۔  یہ گورنر راج مئی 1953 تک نافذ رہا۔ دوسرا گورنر راج 24جون  سے 31اگست 1988 تک نافذ رہا، جو کہ جنرل ضیا الحق نے لگایا تھا  اور گورنر جنرل رحیم الدین خان  نے صوبے کے انتظامی اختیارات سنبھالے۔ اس صوبے میں تیسرا اور آخری گورنر راج  1988 میں لگا  جس کا نفاذ نواز شریف نے کیا تھا۔

            صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ گورنر راج لگے ہیں۔ بلوچستان میں اس کا پہلا نفاذ فروری 1973 میں  اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں ہوا، جو کہ اپریل 1973تک رہا۔ دسمبر 1975میں دوسرا گورنر راج لگا  جو کہ دسمبر 1976 تک نافذ رہا۔ تیسرے کا مشرف دور میں نفاذ ہوا، جو کہ  اکتوبر 1999 سے  دسمبر 2002تک لاگو رہا۔ اس صوبے میں  چوتھا اور آخری گورنر راج جنوری 2013 میں لگا ، جب  کوئٹہ میں دہشت گرد حملوں  ہزارہ برادری کی ہلاکتوں  اور شدید عوامی احتجاج کے بعد وزیرِ اعظم  راجہ اشرف نے گورنر راج نافذ کیا اور وزیرِ اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو تحلیل کر دیا گیا۔

            خیبر پختونخواہ، جسے 2010سے پہلے صوبہ سرحد یا NWFP کہا جاتا تھا  ، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں  گورنر راج، آئینی بحرانوں اور  وفاق و صوبے کے تصادم کے حوالے سے ہمیشہ قابلِ توجہ رہا ہے۔ یہاں پہلا گورنر راج بھٹو کے دورِحکومت میں 16 فروری 1975 کو لگایا گیا ، جب حیات محمد خان شیر پاو کے قتل کے بعد سیاسی کشیدگی اور ہنگامی آرائی پیدا ہوئی تو سردار عنایت اللہ خان گنڈا پور کی صوبائی حکومت ختم کر کے گورنر راج نافذ کیا گیا، جو کہ 3 مئی 1975 تک رہا۔ دوسرا بھی بھٹو کے دورِ حکومت میں ہی لگا جس کا دورانیہ 25فروری تا 24اپریل 1994 ہے، جس میں پیر صابر شاہ (مسلم لیگ ن) کی حکومت کو برطرف کیا گیا۔  تیسرا  گورنر راج دیگر صوبوں کی طرح مشرف دور میں لگا جب 12 اکتوبر 1999کی فوجی بغاوت کے بعد منتخب حکومتوں کا نظام معطل کر دیا گیا۔  اب کی بار (حالیہ گورنر راج)  میں وفاقی حکومت نے دہشت گردی، امن و امان کی خراب صورتِ حال  اور صوبائی حکومت کے انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے عدم تعاون کو بنیاد بناتے ہوئے  11اکتوبر2026 کو گورنر راج کے نفاذ کا اعلان کیا ہے، جس میں وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی  کی صوبائی حکومت کے  انتظامی اختیارات ،گورنر فیصل  کریم کنڈی کو منتقل ہو جائیں گے۔ اس پر مستزاد یہ کہ گورنر راج کے ساتھ ساتھ صوبے میں ایمرجنسی کا بھی نفاذ کر دیا گیا ہے۔

            یاد رہے، گورنر راج ایک غیر معمولی آئینی اقدام ہے۔جس کے نتائج کا انحصار  اس کے قانونی جواز، طریقہ نفاذ ، مدت اور عملی کارکردگی پر ہوتا ہے اور یہ نتائج  متاثرہ صوبے اور وفاق کے لیے فائدہ مند بھی  ثابت ہوسکتے ہیں اور نقصان دہ بھی۔ ممکنہ فوائد میں  وفاق اور صوبے کے درمیان سیکورٹی رابطے کی بہتری کا امکان، دہشت گردی  کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی میں سہولت اور  فوری و ہنگامی  انتظامی فیصلوں  کو شامل کیا جا سکتا ہے، جب کے ممکنہ نقصانات  میں  وفاق اور صوبے کے سیاسی تصادم میں اضافہ، منتخب صوبائی حکومت کے نمائندوں اور کارکنوں میں عدم اطمینان و تحفظ اور  عوامی مینڈیٹ کے بارے میں منفی خدشات کو    رکھا جا سکتا ہے۔

            تاہم،  تاریخ کا سبق یہی ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے  امور سے  وقتی نظم تو قائم کیا جا سکتا ہے، لیکن دیرپا استحکام کے لیے قانون کی بالادستی، سیاسی مکالمے اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کو ناگزیر حیثیت حاصل ہے۔ یہی اصول پاکستان کے مستقبل اور خیبر پختونخوا کے پائیدار امن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

 

تحریر: ڈاکٹر شہباز حسین

 

مزید پڑھیے

سب دیکھیں

زندگی کے سفر میں تھکن، آزمائش، صبر اور شکر کا فلسفہ

توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان سفر چھوڑ دے، راستے کے لیے تیاری نہ کرے، منزل کا تعین نہ کرے اور صرف یہ کہہ کر بیٹھ جائے کہ اللہ سب…

واجدمسعود19 منٹ کا مطالعہ

نو رتنوں سے آگے: اکبر کا تہذیبی دربار

جلال الدین محمد اکبر کو صرف ایک فاتح، وسیع سلطنت کے مالک یا مغلیہ تاج و تخت کے تیسرے فرمانروا کی حیثیت سے دیکھنا اس کی شخصیت اور…

اقدس ہاشمی23 منٹ کا مطالعہ