زندگی کے سفر میں تھکن، آزمائش، صبر اور شکر کا فلسفہ

واجدمسعود19 منٹ کا مطالعہ

زندگی کبھی کبھی ایک طویل سفر کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ ایسا سفر جس کی منزل ہماری نظروں سے اوجھل ہوتی ہے، راستے غیر یقینی ہوتے ہیں، موسم بدلتے رہتے ہیں، کبھی دھوپ راستہ روک لیتی ہے، کبھی بارش رفتار کم کر دیتی ہے، کبھی راستہ دشوار گزار ہو جاتا ہے اور کبھی انسان تھکن سے اس قدر چور ہوتا ہے کہ اسے یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے منزل شاید ابھی بہت دور ہے۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ مسافر چلتا رہتا ہے۔ قدم کبھی تیز ہوتے ہیں، کبھی سست؛ حوصلہ کبھی بلند ہوتا ہے، کبھی ماند پڑتا ہے، لیکن سفر جاری رہتا ہے۔

میں نے اللہ پر توکل کا مفہوم کسی کتاب کے صفحے سے زیادہ لمبی مسافتوں سے سیکھا ہے۔

جب انسان ایک طویل سفر پر نکلتا ہے تو راستے میں آنے والے شہر، قصبے، بستیاں، بازار، کھیت، پہاڑ، دریا اور سڑکیں اپنی اپنی زندگی میں رواں دواں دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں بچے اسکول جا رہے ہوتے ہیں، کہیں کسان اپنے کھیت میں مصروف ہوتا ہے، کہیں دکان دار دکان کھول رہا ہوتا ہے، کہیں کوئی مسافر بس کا انتظار کر رہا ہوتا ہے اور کہیں کوئی ماں اپنے بچے کا ہاتھ تھامے سڑک پار کر رہی ہوتی ہے۔ مسافر اپنی مخصوص منزل کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے، مگر اس کے اردگرد زندگی اپنی پوری رفتار سے جاری رہتی ہے۔

اس منظر میں ایک بہت بڑا سبق پوشیدہ ہے۔

ہم کسی ایک مشکل میں مبتلا ہوں تو ہمیں لگتا ہے کہ پوری دنیا رک گئی ہے، حالانکہ دنیا نہیں رکتی۔

ہماری پریشانی ہماری اپنی ہوتی ہے، ہماری آزمائش ہماری اپنی ہوتی ہے، ہماری تھکن ہمیں بہت بڑی محسوس ہوتی ہے، مگر زندگی کا نظام اپنے رب کے حکم سے جاری رہتا ہے۔ جو شخص آج غم میں ہے، کل اسے خوشی مل سکتی ہے؛ جو آج بے سمت دکھائی دے رہا ہے، کل اسی کے سامنے راستہ کھل سکتا ہے؛ جس دروازے کو وہ بند سمجھ رہا ہے، ممکن ہے اس کے لیے کوئی دوسرا دروازہ کھلنے والا ہو۔

یہی تو توکل ہے۔

توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان سفر چھوڑ دے، راستے کے لیے تیاری نہ کرے، منزل کا تعین نہ کرے اور صرف یہ کہہ کر بیٹھ جائے کہ اللہ سب کچھ کر دے گا۔ قرآن ہمیں فیصلہ کرنے، کوشش کرنے اور پھر اللہ پر بھروسہ کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ سورۂ آل عمران میں فرمایا گیا کہ جب فیصلہ کر لو تو اللہ پر توکل کرو، بے شک اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

یعنی توکل ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کا نام نہیں؛ توکل کوشش کے بعد دل کو اللہ کے سپرد کرنے کا نام ہے۔

مسافر اور اس کا رب سے تعلق کادوران سفر مشاہدہ کیا جا سکتا ہے

لمبی مسافت کا سب سے خوبصورت تجربہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔

جب سفر چند کلومیٹر کا ہو تو انسان راستے کو معمولی سمجھتا ہے۔ لیکن جب سینکڑوں کلومیٹر کا سفر سامنے ہو تو ہر گزرتا ہوا کلومیٹر اسے یاد دلاتا ہے کہ منزل ایک ہی قدم سے نہیں ملتی۔ راستہ مرحلہ وار طے ہوتا ہے۔

زندگی بھی ایسی ہی ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مشکلات فوراً ختم ہو جائیں، ہماری دعائیں فوراً قبول ہو جائیں، ہمارے مسائل ایک ہی دن میں حل ہو جائیں اور ہماری منزل ہمارے سامنے آ جائے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت کا نظام ہماری خواہشات کی رفتار کا پابند نہیں۔

کبھی دعا قبول ہونے میں وقت لگتا ہے، کبھی راستہ بدل جاتا ہے، کبھی منزل بدلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور کبھی انسان کو برسوں بعد سمجھ آتا ہے کہ جس چیز کو وہ اس وقت نقصان سمجھ رہا تھا، وہ دراصل کسی بڑے نقصان سے بچاؤ تھا۔

ہم اکثر زندگی کو اپنے محدود زاویۂ نظر سے دیکھتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ پورا منظر جانتا ہے۔

اسی لیے قرآن ہمیں یقین دلاتا ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا اور اس کی حدود کا خیال رکھتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ پیدا کر دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا؛ پھر فرمایا کہ جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہے۔

یہ الفاظ محض تسلی نہیں؛ یہ ایمان کی بنیاد ہیں۔

ہر راستہ منزل نہیں ہوتا،لمبی مسافت میں ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے: ہر خوبصورت منظر منزل نہیں ہوتا۔

راستے میں کوئی شہر بہت اچھا لگ سکتا ہے، کوئی مقام دل کو بھا سکتا ہے، کسی جگہ موسم خوشگوار ہو سکتا ہے، کسی مقام پر انسان رکنے کو دل چاہ سکتا ہے، لیکن مسافر جانتا ہے کہ اسے آگے جانا ہے۔

دنیا بھی یہی ہے۔

یہاں کچھ کامیابیاں ایسی ہوتی ہیں جن پر ہمیں رک جانے کا دل چاہتا ہے۔ کچھ آسائشیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم ہمیشہ کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ تعلقات، عہدے، شہرت، دولت اور سہولتیں ہمیں اس قدر عزیز ہو جاتی ہیں کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم مسافر ہیں۔

مگر انسان مسافر ہے۔

اس کا قیام کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، اسے ایک دن اگلی منزل کی طرف جانا ہے۔

قرآن ہمیں بار بار دنیا کی عارضی حیثیت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ دنیا کی رونق، دولت، طاقت اور اختیار اپنی جگہ، لیکن یہ سب دائمی نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے رب کے سامنے سرخرو ہو۔

شاید اسی لیے انسان کو لمبے سفر میں بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ راستہ ہمارا نہیں، راستہ ہمیں دیا گیا ہے۔

تھکن سفر کی دشمن نہیں

لمبی مسافت میں تھکن لازمی ہے۔

کبھی آنکھیں بوجھل ہوتی ہیں، کبھی جسم جواب دیتا ہے، کبھی دل چاہتا ہے کہ گاڑی روک دی جائے اور کچھ دیر سکون کیا جائے۔ لیکن تھکن کا مطلب یہ نہیں کہ سفر غلط ہے۔

یہ بات زندگی کے لیے بھی کتنی اہم ہے!

ہم اکثر اپنی تھکن کو اپنی ناکامی سمجھ لیتے ہیں۔

کسی مشکل مرحلے سے گزر رہے ہوں تو سمجھتے ہیں کہ شاید ہم کمزور ہیں۔ کسی مقصد کے حصول میں وقت لگ رہا ہو تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم ناکام ہو گئے۔ کسی آزمائش کا دور طویل ہو جائے تو دل کہتا ہے کہ شاید ہماری دعا نہیں سنی جا رہی۔

ایسا نہیں۔

تھک جانا انسانی ہے؛ ہمت ہار دینا ضروری نہیں۔

انسان کو آرام کی ضرورت ہو سکتی ہے، مگر راستہ چھوڑنے کی نہیں۔ کبھی ایک رات کا سکون، کبھی ایک دعا، کبھی کسی مخلص انسان کے دو لفظ اور کبھی رب کے سامنے چند آنسو انسان کو دوبارہ کھڑا کر دیتے ہیں۔

قرآن مشکل کے ساتھ آسانی کادرس دیتا ہے قرآن مجید نے مشکلات سے گزرنے والے انسان کو ایک ایسی امید دی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی:

فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

یعنی: بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ سورۂ الشرح کی آیات 5 اور 6 میں یہی وعدہ مسلسل دو مرتبہ بیان ہوا ہے۔

غور کیجیے، فرمایا مشکل کے بعد ہی نہیں بلکہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

یعنی ممکن ہے جس مشکل میں ہم مبتلا ہوں، اسی کے اندر کوئی ایسی تربیت، تجربہ، حکمت، نیا راستہ یا مستقبل کی کامیابی پوشیدہ ہو جسے ہم آج دیکھ نہیں پا رہے۔

جیسے لمبی مسافت میں سفر کی تکلیف کے ساتھ منزل کی امید بھی ساتھ چلتی ہے، ویسے ہی زندگی کی آزمائش کے ساتھ اللہ کی رحمت بھی موجود رہتی ہے۔

صبر کا مطلب خاموش شکست نہیں،صبر کو ہم اکثر غلط سمجھتے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ صبر کا مطلب ہے انسان کچھ نہ کرے، ہر ظلم برداشت کرے، ہر تکلیف پر خاموش رہے اور اپنے حالات بدلنے کی کوشش ترک کر دے۔

یہ صبر نہیں۔

صبر کا اصل مفہوم یہ ہے کہ انسان مشکل میں اپنا توازن نہ کھوئے، گناہ کا راستہ اختیار نہ کرے، ناامیدی کو اپنے دل پر غالب نہ آنے دے اور جائز کوشش جاری رکھے۔

مسافر جب راستے میں ٹریفک جام دیکھتا ہے تو وہ منزل کا تصور ختم نہیں کرتا۔ وہ راستہ بدل سکتا ہے، رفتار کم کر سکتا ہے، کچھ دیر رک سکتا ہے، مگر اگر منزل واقعی ضروری ہو تو سفر جاری رکھتا ہے۔

زندگی میں بھی یہی حکمت درکار ہے۔

راستہ بدل لینا کبھی کبھی حکمت ہے، منزل چھوڑ دینا ہمیشہ حل نہیں۔

شکر صرف خوشی میں نہیں ہوتا

ہم شکر کو عموماً نعمت ملنے کے بعد یاد کرتے ہیں۔

صحت اچھی ہو تو الحمدللہ، کاروبار اچھا ہو تو الحمدللہ، اولاد کامیاب ہو تو الحمدللہ، ملازمت مل جائے تو الحمدللہ۔

لیکن مومن کی زندگی میں شکر اس سے کہیں وسیع تصور ہے۔

کبھی انسان ایک آزمائش سے بچنے پر شکر ادا کرتا ہے جس کا اسے علم بھی نہیں ہوتا۔

کبھی بیماری میں اس بات پر شکر کرتا ہے کہ بیماری نے اسے اپنے رب کے قریب کر دیا۔

کبھی ناکامی میں شکر کرتا ہے کہ شاید یہ ناکامی اسے کسی غلط راستے سے بچا گئی۔

کبھی کسی بند دروازے پر شکر کرتا ہے کہ شاید اس دروازے کے پیچھے اس کے لیے نقصان تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے مومن کی اسی کیفیت کو نہایت خوبصورتی سے بیان فرمایا۔ صحیح مسلم کی روایت میں حضرت صہیبؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ عجیب ہے؛ اس کے ہر معاملے میں خیر ہے۔ خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، یہ اس کے لیے خیر ہے، اور تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔

یہی تو مومن کی اصل طاقت ہے:

خوشی اسے مغرور نہیں کرتی اور مصیبت اسے مایوس نہیں کرتی۔

منزل پر پہنچ کر انسان پیچھے دیکھتا ہے

لمبی مسافت کا سب سے جذباتی لمحہ وہ ہوتا ہے جب انسان آخرکار منزل پر پہنچتا ہے۔

اس وقت اسے سفر کی تھکن بھی یاد آتی ہے، راستے کی دشواریاں بھی، وہ مقام بھی جہاں گاڑی خراب ہوئی تھی، وہ لمحہ بھی جب راستہ بھٹکنے کا خدشہ پیدا ہوا تھا، وہ بارش بھی جس نے سفر مشکل کر دیا تھا، وہ لمحہ بھی جب انسان نے سوچا تھا کہ شاید اب مزید سفر ممکن نہیں۔

لیکن منزل پر پہنچ کر ایک عجیب اطمینان ہوتا ہے۔

انسان سوچتا ہے:

میں یہ سب کیسے طے کر گیا؟

یہی سوال زندگی کے آخری حصے میں بھی شاید انسان خود سے پوچھے گا۔

جو شخص آج مشکلات میں گھرا ہوا ہے، ممکن ہے کچھ عرصے بعد پیچھے مڑ کر دیکھے اور کہے:

اللہ نے مجھے اس مرحلے سے بھی گزار دیا۔

تب اسے معلوم ہوگا کہ جس راستے کو وہ اس وقت ناقابلِ عبور سمجھ رہا تھا، وہ اللہ کے حکم سے عبور ہو گیا۔

زندگی کے راستے میں ہر شخص اپنی اپنی مسافت پر ہے

ہمیں دوسروں کے سفر کو اپنے سفر کا پیمانہ نہیں بنانا چاہیے۔

کسی کی گاڑی تیز چل رہی ہے، کسی کی سست۔ کسی کو راستہ ہموار ملا، کسی کو پہاڑی راستے ملے۔ کسی کی منزل جلد سامنے آ گئی، کسی کو زیادہ مسافت طے کرنا پڑی۔

یہی دنیا کا نظام ہے۔

ایک شخص کم عمری میں کامیاب ہو جاتا ہے، دوسرا عمر کے آخری حصے میں۔ کوئی جلد دولت مند ہو جاتا ہے، کوئی ساری زندگی محنت کرتا رہتا ہے۔ کسی کو اولاد کی خوشیاں جلد ملتی ہیں، کوئی طویل انتظار کرتا ہے۔ کسی کی صحت مضبوط رہتی ہے، کسی کو بیماریوں سے لڑنا پڑتا ہے۔

لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے:اللہ کے ہاں ہماری زندگی کی قدر صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ ہم کتنی جلدی منزل پر پہنچے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم راستے میں کیسے چلتے رہے۔

کبھی سفر کی تاخیر بھی رحمت ہوتی ہے

انسان جلدی چاہتا ہے۔

جلدی کامیابی، جلدی ترقی، جلدی دولت، جلدی شہرت، جلدی خوشی۔

مگر اللہ کی تقدیر میں جلدی اور دیر کا مفہوم ہماری سمجھ سے مختلف ہے۔

کبھی جس چیز کے لیے ہم بے قرار ہوتے ہیں، اگر وہ ہمیں وقت سے پہلے مل جائے تو شاید ہم اسے سنبھال نہ سکیں۔

کبھی تاخیر انسان کی تربیت ہوتی ہے۔

کبھی انتظار انسان کو مضبوط بناتا ہے۔

کبھی محرومی انسان کو اپنے رب سے جوڑتی ہے۔

اور کبھی راستے کی طوالت انسان کو وہ سبق دے دیتی ہے جو منزل کی آسانی کبھی نہیں دے سکتی۔

اسی لیے ہر تاخیر کو ناکامی کہنا درست نہیں۔

بعض اوقات اللہ تعالیٰ منزل کو مؤخر نہیں کرتا، انسان کو منزل کے قابل بنا رہا ہوتا ہے۔

توکل اور تدبیر ساتھ ساتھ ہےہمیں توکل کا مفہوم بھی درست سمجھنا ہوگا۔

اگر انسان لمبے سفر پر نکلے اور گاڑی میں ایندھن نہ ڈلوائے، نقشہ نہ دیکھے، گاڑی کی حالت نہ جانچے، راستے کے موسم کا خیال نہ رکھے اور پھر کہے کہ مجھے اللہ پر توکل ہے، تو یہ توکل نہیں، غفلت ہے۔

اسلام تدبیر سے منع نہیں کرتا۔

قرآن کہتا ہے کہ فیصلہ کرو اور پھر اللہ پر توکل کرو۔

یعنی:کوشش ہماری، نتیجہ اللہ کے اختیار میں۔

قدم ہمارا، راستہ اللہ کے حکم سے۔

دعا ہماری، فیصلہ اللہ کا۔

یہی توازن مومن کو مایوسی سے بچاتا ہے۔

ہم اکثر راستے کو دیکھتے ہیں، راستہ بنانے والے کو نہیں

انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ سامنے موجود رکاوٹ دیکھ لیتا ہے، مگر اس ذات کی قدرت بھول جاتا ہے جو رکاوٹ کو ہٹا سکتی ہے۔

ہم کہتے ہیں:

یہ کام بہت مشکل ہے۔

یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

یہ قرض کیسے اترے گا؟

یہ بیماری کیسے ختم ہوگی؟

یہ رشتہ کیسے سنبھلے گا؟

یہ ملازمت کیسے ملے گی؟

یہ اولاد کیسے کامیاب ہوگی؟

یہ مشکل کیسے گزرے گی؟

اور پھر کبھی کبھی ایک ایسا راستہ کھلتا ہے جس کا ہم نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔

قرآن کا وعدہ یہی ہے کہ اللہ ایسے مقام سے رزق اور راستہ دے سکتا ہے جہاں انسان کا گمان بھی نہیں ہوتا۔

اس لیے مایوسی سے پہلے ایک مرتبہ آسمان کی طرف دیکھ لینا چاہیے۔

زندگی ایک مسافت ہے، مقابلہ نہیں

آج ہم نے زندگی کو مقابلہ بنا دیا ہے۔

کون آگے نکل گیا؟

کس کے پاس بڑا گھر ہے؟

کس کی گاڑی مہنگی ہے؟

کس کے بچے بڑے اسکول میں پڑھتے ہیں؟

کس کی تنخواہ زیادہ ہے؟

کس کے پاس عہدہ ہے؟

کس کا کاروبار زیادہ ہے؟

کس کی شہرت زیادہ ہے؟

مگر زندگی دراصل دوسروں سے مقابلہ نہیں، اپنے رب کی طرف سفر ہے۔

ہمیں دوسروں کی رفتار دیکھ کر اپنی مسافت پر افسوس نہیں کرنا چاہیے۔

کسی کا سفر پانچ گھنٹے میں مکمل ہوا، کسی کا دس گھنٹے میں۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دوسرا مسافر ناکام تھا۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ منزل تک پہنچا؟

غم بھی ایک استاد ہے،زندگی میں کچھ سبق خوشی نہیں سکھاتی، صرف تکلیف سکھاتی ہے۔

کچھ باتیں کتاب نہیں سکھاتی، سفر سکھاتا ہے۔

کچھ حقیقتیں انسان دوسروں سے سن کر نہیں سمجھتا، خود گزر کر سمجھتا ہے۔

غم انسان کو نرم کرتا ہے۔

محرومی اسے دوسروں کے درد کا احساس دیتی ہے۔

بیماری اسے صحت کی قدر سکھاتی ہے۔

تنہائی اسے تعلقات کی اہمیت سمجھاتی ہے۔

ناکامی اسے کامیابی کی قیمت بتاتی ہے۔

اور لمبی مسافت اسے یہ سکھاتی ہے کہ ہر قدم منزل نہیں، لیکن ہر قدم منزل کی طرف ہو سکتا ہے۔

جب راستہ دشوار ہو تو رفتار کم کر لیجیے، امید نہیں

زندگی میں کبھی ایسے حالات بھی آتے ہیں جب انسان کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔

کبھی صحت ساتھ نہیں دیتی۔

کبھی مالی مشکلات آ جاتی ہیں۔

کبھی گھریلو مسائل گھیر لیتے ہیں۔

کبھی ملازمت کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

کبھی اولاد کے مسائل پریشان کرتے ہیں۔

کبھی کسی عزیز کی جدائی انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔

ایسے وقت میں اپنے آپ سے یہ مطالبہ نہ کریں کہ آپ ہمیشہ پہلے جیسی رفتار سے چلیں۔

کبھی تھوڑا رکنا بھی ضروری ہے۔

کبھی آنکھیں بند کرکے دعا کرنا بھی ضروری ہے۔

کبھی اپنے رب سے کہنا بھی ضروری ہے:

یا اللہ! میں تھک گیا ہوں، مگر تجھ سے مایوس نہیں۔

یہ جملہ شاید انسان کے اندر ایک نئی طاقت پیدا کر دے۔

میر تقی میر کا معروف شعر ہے:

پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے

میر کے شعر کا اصل موضوع اگرچہ انسانی کیفیت اور رازِ دل ہے، مگر اس میں چھپی ہوئی کیفیت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ انسان اپنے دکھ کو چھپا لے، کائنات پھر بھی اس کے حال سے بے خبر نہیں۔ مومن کے لیے اس احساس سے بڑی تسلی کیا ہوگی کہ جس رب نے اسے پیدا کیا، وہ اس کے ظاہر و باطن، اس کے سفر اور اس کی تھکن سے واقف ہے۔

اللہ پر بھروسہ انسان کو مضبوط بناتا ہے

توکل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان نتیجے کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔

وہ کوشش کرتا ہے مگر نتیجے کا بت نہیں بناتا۔

وہ کامیابی ملنے پر شکر کرتا ہے اور ناکامی آنے پر خود کو مکمل طور پر شکست خوردہ نہیں سمجھتا۔

کیونکہ اسے معلوم ہے کہ:

میرا کام کوشش کرنا ہے، فیصلے کرنا اللہ کا کام ہے۔

یہ یقین انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔

وہ لوگوں کی تعریف سے بہت زیادہ خوش نہیں ہوتا اور ان کی تنقید سے بہت زیادہ ٹوٹتا بھی نہیں۔

وہ دروازے کھٹکھٹاتا ہے، مگر دروازے کھلنے کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے۔

دنیا کی مسافت کا آخری پڑاؤ

ہم سب مسافر ہیں۔

کسی کو یہ بات جوانی میں سمجھ آ جاتی ہے، کسی کو بڑھاپے میں، اور کسی کو زندگی کے آخری لمحوں میں۔

ہم گھروں کو مستقل سمجھتے ہیں، عہدوں کو مستقل سمجھتے ہیں، دولت کو مستقل سمجھتے ہیں، شہرت کو مستقل سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم سب ایک ایسی مسافت پر ہیں جس کی آخری منزل اس دنیا میں نہیں۔

یہ احساس انسان کو متکبر ہونے سے بچاتا ہے۔

اگر آج میرے پاس اختیار ہے تو کل نہیں ہوگا۔

اگر آج میرے پاس صحت ہے تو ہمیشہ نہیں رہے گی۔

اگر آج میرے پاس دولت ہے تو یہ بھی ہمیشہ نہیں رہے گی۔

اگر آج لوگ میرے گرد ہیں تو ایک دن مجھے تنہا بھی ہونا ہے۔

لہٰذا اصل کامیابی یہ نہیں کہ سفر میں ہم نے کتنی چیزیں جمع کیں؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ سفر نے ہمیں کیا بنا دیا۔

اگر زندگی ایک طویل مسافت ہے تو میرے خیال میں اس سفر کے دو سب سے قیمتی زادِ راہ ہیں:صبر اور شکر

صبر ہمیں مشکل میں سنبھالتا ہے۔

شکر ہمیں نعمت میں سنبھالتا ہے۔

صبر ہمیں مایوسی سے بچاتا ہے۔

شکر ہمیں غرور سے بچاتا ہے۔

صبر کہتا ہے: یہ وقت بھی گزر جائے گا۔

شکر کہتا ہے: جو ملا ہے وہ بھی کم نہیں۔

اور توکل کہتا ہے:

جو آنے والا ہے، وہ میرے رب کے علم میں ہے۔

کبھی کسی لمبی مسافت کے بعد جب آپ اپنی منزل پر پہنچیں تو ایک لمحے کے لیے پیچھے مڑ کر راستے کو ضرور دیکھیے گا۔

وہ موڑ یاد کیجیے جہاں آپ گھبرائے تھے۔

وہ جگہ یاد کیجیے جہاں آپ تھکے تھے۔

وہ لمحہ یاد کیجیے جب آپ کو لگا تھا کہ شاید منزل بہت دور ہے۔

اور پھر خود سے پوچھیے:

میں یہاں کیسے پہنچا؟

شاید دل سے ایک ہی جواب آئے:

اللہ نے پہنچایا۔

تب شاید ہمیں سمجھ آئے کہ ہماری زندگی میں کتنی دعائیں خاموشی سے قبول ہوئیں، کتنی مصیبتیں ہم سے ٹال دی گئیں، کتنے راستے ہمیں نظر آئے بغیر ہمارے لیے کھولے گئے اور کتنے ایسے راستے بند کیے گئے جن کے پیچھے شاید ہمارے لیے نقصان چھپا تھا۔

قرآن کا پیغام یہی ہے کہ اللہ پر اعتماد کرنے والا بے سہارا نہیں۔ اور قرآن یہ بھی یقین دلاتا ہے کہ مشکل کے ساتھ آسانی موجود ہے۔

لہٰذا اگر آج آپ زندگی کی کسی لمبی مسافت میں تھک گئے ہیں تو سفر کو برا نہ کہیں۔

ذرا رفتار کم کر لیجیے۔

کچھ دیر سانس لیجیے۔

اپنے رب کو یاد کیجیے۔

دعا کیجیے۔

پھر اٹھ کر چل پڑیے۔

کیونکہ ممکن ہے جس موڑ پر آپ رکنے کا سوچ رہے ہیں، منزل اسی موڑ کے چند قدم آگے ہو۔

اور اگر منزل ابھی بھی دور ہے تو بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

راستہ اللہ کا ہے، سفر اللہ کے حکم سے ہے، مسافر اللہ کا بندہ ہے اور انجام بھی اسی کے اختیار میں ہے۔

پس چلتے رہیے۔

صبر کے ساتھ، شکر کے ساتھ، دعا کے ساتھ اور سب سے بڑھ کر اللہ پر توکل کے ساتھ۔

کیونکہ دنیا ایک مسافت ہے، قیام مختصر ہے، راستے مختلف ہیں، آزمائشیں الگ الگ ہیں—مگر منزلِ حقیقی ایک ہی ہے۔

مزید پڑھیے

سب دیکھیں

صوبوں میں گورنر راج کا رواج

اس تحریر کا بنیادی موضوع پاکستانی سیاست ہے، جس میں صوبوں میں لگنے والے گورنر راج کی تاریخ اور کے پی میں لگنے والے حالیہ گورنر راج…

ڈاکٹر شہباز حسین5 منٹ کا مطالعہ

نو رتنوں سے آگے: اکبر کا تہذیبی دربار

جلال الدین محمد اکبر کو صرف ایک فاتح، وسیع سلطنت کے مالک یا مغلیہ تاج و تخت کے تیسرے فرمانروا کی حیثیت سے دیکھنا اس کی شخصیت اور…

اقدس ہاشمی23 منٹ کا مطالعہ