انور سدید کے خاکوں میں بین المتونیت کے عناصر: تحقیقی و تنقیدی مطالعہ
تعارف
اس تحقیق میں انور سدید کے پانچوں خاکوں کے مجموعوں میں شامل خاکوں کا بین المتونیت کے حوالے سے تحقیقی و تنقیدی مطالعہ کیا گیا ہے۔ تحقیق میں ادبی، تاریخی، سیاسی اور سماجی حوالوں کی نشان دہی کرتے ہوئے ان کے فنی و فکری کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔
خلاصہ
زیرِ نظر تحقیق میں انور سدید کے پانچوں خاکوں کے مجموعوں ’’محترم چہرے‘‘، ’’قلم کے لوگ‘‘، ’’الماریوں میں سجے لوگ‘‘، ’’ادبیانِ رفتہ‘‘ اور ’’سعید صورتیں‘‘ میں شامل خاکوں کا بین المتونیت کے حوالے سے تحقیقی و تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ تحقیق کا مقصد ان خاکوں میں موجود ادبی، تاریخی، سیاسی اور سماجی حوالوں، شخصیات، فن پاروں، اقتباسات اور دیگر متنی مظاہر کی نشان دہی اور ان کے فنی و فکری کردار کا جائزہ لینا ہے۔ نظریاتی سطح پر جولیا کرِستوا کے تصورِ بین المتونیت اور میخائل باختین کے تصورِ مکالمیت سے استفادہ کیا گیا ہے۔ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ انور سدید کے خاکے محض شخصی تاثرات تک محدود نہیں بلکہ ان میں تحقیقی، تنقیدی، تاریخی اور دستاویزی شعور نمایاں ہے؛ وہ مختلف سابقہ متون اور حوالہ جات کو اپنے اسلوب میں جذب کرکے شخصیت، عہد اور ادبی و تہذیبی پس منظر کے باہمی ربط کو اجاگر کرتے ہیں۔ یوں ان کے خاکوں میں بین المتونیت محض معلوماتی یا تزئینی عنصر نہیں بلکہ ان کی فنی تشکیل اور معنوی وسعت کا ایک اہم وسیلہ ہے۔