پروفیسر شہباز علی
Prof. Shahbaz Ali
استاد اُردو ادبیات و موسیقیات، معروف ہارمونیم نواز، نیشنل کالج آف آرٹس
پروفیسر شہباز علی کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ آپ گورنمنٹ کالج سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں اردو زبان و ادب کی تدریس سے وابستہ رہے ہیں۔ موسیقی کے میدان میں ان کی دلچسپی اور عملی ریاض نے انہیں ایک ایسے فن کار کے طور پر متعارف کرایا جو ہارمونیم کو محض گائیکی کی سنگت کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ اسے ایک خودمختار ساز کے طور پر بھی پیش کرتا ہے۔ ان کی ہارمونیم نوازی میں راگ، کلاسیکی موسیقی کی باریکیاں اور ساز کی انفرادی فنی صلاحیتیں نمایاں ہیں۔ ان کی موسیقی کی تربیت میں قاضی ظہور الحق اور استاد ماسٹر محمد صادق پنڈی والے کی رہنمائی کا ذکر ملتا ہے۔ دستیاب تعارف کے مطابق انہوں نے شہنشاہِ غزل مہدی حسن سے بھی شاگردی کا تعلق قائم کیا۔ ان روابط نے انہیں موسیقی کی روایت کو قریب سے سمجھنے، اساتذہ کے تجربات سے استفادہ کرنے اور کلاسیکی و نیم کلاسیکی موسیقی کے فن کاروں کے حالات اور فنی خصوصیات کو قلم بند کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پروفیسر شہباز علی نے پاکستان کے مختلف ثقافتی اداروں، جن میں پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) اور ہنر کدہ شامل ہیں، میں موسیقی کی تعلیم بھی دی۔ ان کے تعارف میں ٹیلی وژن کے تین سو سے زائد براہِ راست پروگراموں میں ماہرِ موسیقی کی حیثیت سے شرکت کا ذکر بھی ملتا ہے۔ یوں ان کی خدمات تدریس، عملی فن، موسیقی کی تفہیم اور اس کے فروغ کے متعدد پہلوؤں پر محیط ہیں۔ ان کی ایک نمایاں خصوصیت انفرادی ہارمونیم نوازی ہے۔ فروری 2014ء میں The Express Tribune نے ان کی ایک پرفارمنس کے حوالے سے انہیں پاکستان کے ان چند فن کاروں میں شمار کیا جو ہارمونیم کو تنہا، باقاعدہ ساز کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ اس پروگرام میں انہوں نے راگ کوشل رنجنا سے آغاز کیا اور کلاسیکی دھنوں کے ساتھ سندھی لوک موسیقی اور مغربی آہنگ کے عناصر بھی پیش کیے۔ موسیقی کے ساتھ ان کا تعلق تحریر و تحقیق کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ ان کی کتاب Sur Sansaar میں برصغیر کے اکیس ممتاز موسیقی کاروں کے فنی خاکے اور ان کی موسیقی کا جائزہ شامل ہے۔ اس کتاب کی اہمیت اس پہلو سے بھی ہے کہ مصنف نے کئی فن کاروں کو ذاتی طور پر جانا یا ان سے قربت رکھی، اس لیے ان کے خاکوں میں موسیقی کی فنی جہات کے ساتھ شخصی مشاہدے کی اہمیت بھی ہے۔ یہ تمام پہلو پروفیسر شہباز علی کو اردو تدریس اور موسیقی کے درمیان ایک اہم رابطے کی حیثیت دیتے ہیں: ایک ایسے استاد کی صورت میں جو ادب سے وابستہ ہونے کے باوجود اپنی عملی موسیقی اور تحریروں کے ذریعے کلاسیکی موسیقی کی روایت کو محفوظ کرنے اور نئی نسل تک پہنچانے میں حصہ لیتے رہے ہیں۔
پروفیسر شہباز علی ان اہلِ علم و فن میں شامل ہیں جنہوں نے اردو زبان و ادب کی تدریس کے ساتھ ساتھ برصغیر کی کلاسیکی موسیقی، موسیقی کی تاریخ، گائیکی اور ہارمونیم نوازی کے میدان میں بھی اپنی شناخت قائم کی۔
ہارمونیم نوازی اور مضامین
Performances and Articles
Report
Instrumental Music: Reviving Lost Melodies
Express Tribune
کھولیےمضمون
کلاسیکی فنِ موسیقی کی یادگار کتاب: ’’خاک سے اٹھنے والا فن
AikRozan
کھولیےمضمون
اعجاز حسین حضروی کی ہارمونیم نوازی اور سنگت
AikRozan
کھولیےمضمون
گائیکی کا بھگوان: شہنشاہِ غزل مہدی حسن
AikRozan
کھولیےمضمون
ٹھمری، شائقینِ موسیقی اور فریدہ خانم
AikRozan
کھولیےمضمون
ملکۂ ترنم نور جہاں، سر جہاں آ کے ٹھہرے
AikRozan
کھولیےمضمون
کیا حال سناواں دل دا: ملکۂ کافی زاہدہ پروین
AikRozan
کھولیےمضمون
طفیل نیازی: لازوال فن کار
AikRozan
کھولیے
ان کی کتاب: سُر سنسار
His Book On Music : Sur Sansaar
یہ کتاب برصغیر کے اکیس ممتاز موسیقی کاروں کے خاکوں اور ان کی فنی صلاحیتوں کے جائزے پر مشتمل ہے۔ اس میں موسیقی کی معروف شخصیات کے ساتھ مصنف کے استاد قاضی ظہور الحق کا ذکر بھی شامل ہے۔