وزیرستان: علمی و ادبی خدمات
یہ تحقیق ڈاکٹر اے آر داوڑ کے پی ایچ ڈی کے حوالے سے ہے جس میں آپ نے وزیرستان کی علمی و ادبی روایت کا جائزہ لیا ہے۔
- محقق
- ڈاکٹر اے۔ آر حیدر داوڑ
- ادارہ
- فیڈرل اردو یونیورسٹی اسلام آباد
Dr A.R Haider Dawar
سربراہ شعبۂ تحقیق و مطبوعات، بنوں میڈیکل کالج
محقق، مصنف، شاعر
ڈاکٹر اے۔ آر۔ حیدر داوڑ پاکستان کے ممتاز محقق، مصنف، شاعر، ادبی نقاد اور اسکالر ہیں، جن کی علمی و ادبی شخصیت کا بنیادی حوالہ وزیرستان اور سابق قبائلی علاقہ جات کے ادبی، ثقافتی، تاریخی اور فکری ورثے کی تحقیق، تدوین اور تحفظ ہے۔ ان کی زندگی کا ایک اہم باب اس خطے کی بکھری ہوئی علمی روایت کو یکجا کرنے، اس کے ادبی سرمائے کو محفوظ کرنے اور اس کی تہذیبی و فکری شناخت کو نئی نسل کے سامنے اجاگر کرنے سے عبارت ہے۔ انہوں نے وزیرستان کو محض ایک جغرافیائی خطے کے طور پر نہیں دیکھا، بلکہ اسے ایک زندہ تہذیبی، فکری اور ادبی روایت کے طور پر سمجھنے اور پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی تحریروں میں تاریخ کے اوراق، تہذیب کی خوشبو، اہلِ قلم کی آوازیں اور ایک پورے خطے کی اجتماعی یادداشت باہم پیوست دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر حیدر داوڑ اس وقت بنوں میڈیکل کالج میں شعبۂ تحقیق و مطبوعات (Research & Publications) کے سربراہ (HOD)، لٹریری سوسائٹی کے چیئرمین اور کالج کے سالانہ ادبی جریدے ’’تریاق‘‘ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ طبی تعلیم کے اس ماحول میں ادب، تحقیق، مطالعہ اور تخلیقی اظہار کی شمع روشن رکھنے کے لیے کوشاں ہیں اور نوجوان طلبہ میں کتاب، قلم اور فکر سے رشتہ مضبوط کرنے کو اپنی علمی ذمہ داری کا حصہ سمجھتے ہیں۔ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا دائرہ محض تدریس یا ادارہ جاتی ذمہ داریوں تک محدود نہیں رہا۔ وہ اکادمی ادبیات پاکستان میں پراجیکٹ کی سطح پر فاٹا ونگ کے انچارج اور ریڈیو پاکستان میں ایڈیٹر (نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز) کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس سے قبل گیریژن کیڈٹ کالج کوہاٹ میں بطور لیکچرر تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ تدریس، تحقیق، ادب اور ابلاغ کے ان متنوع تجربات نے ان کی شخصیت کو ایک وسیع فکری اور علمی تناظر عطا کیا۔ڈاکٹر حیدر داوڑ کی علمی شناخت کا ایک نمایاں پہلو ان کی وزیرستان اور سابق فاٹا کے ادبی و فکری ورثے پر مسلسل تحقیقی کاوش ہے۔ ان کی چار تحقیقی و ادبی کتب شائع ہو چکی ہیں، جن میں انہوں نے وزیرستان کی علمی روایت، اہلِ علم و ادب کی خدمات، تاریخی شعور، مذہبی و سیاسی تحریکات اور شعری و ادبی مزاج کو تحقیق کے آئینے میں محفوظ کرنے کی سعی کی ہے۔ مطبوعہ کتب: 1. وفیاتِ مشاہیرِ وزیرستان — 2020ء 2. وزیرستان: علمی و ادبی خدمات — 2021ء، اشاعتِ اول؛ 2024ء، اشاعتِ دوم 3. وزیرستان: مذہبی، سیاسی و ادبی تحریکیں — 2025ء 4. فاٹا میں شعر و ادب — 2025ء ان کی اہم تصنیف و تحقیق ’’وزیرستان: علمی و ادبی خدمات‘‘ کو ونر بک ایوارڈ 2025ء میں اکسفرڈ پریس یوبیورسٹی کراچی سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کی تحقیقی و تصنیفی کاوشوں کا ایک اہم اعتراف ہے۔ اسی طرح انہیں ادب کے شعبے میں برانڈ آف دی ایئر ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا، جو گورنر پنجاب کی جانب سے پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ وہ متعدد قومی، سرکاری و غیر سرکاری ادبی و علمی اعزازات بھی حاصل کر چکے ہیں۔ان کی تحقیقی سرگرمیوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے ایسے ادبی و تاریخی موضوعات کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا جن پر منظم اور مسلسل تحقیق کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے۔ یوں ان کی تصانیف وزیرستان اور سابق فاٹا کی علمی و ادبی تاریخ کے ایک اہم دستاویزی سلسلے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ان کے علمی و ادبی سفر کا قلم ابھی رکا نہیں۔ متعدد تحقیقی و تخلیقی منصوبے زیرِ تکمیل یا غیر مطبوعہ ہیں، جن میں بالخصوص: 1. ادب میں قبائل کا حصہ 2. میڈیکل ڈاکٹرز کی علمی و ادبی خدمات (KP Chapter) 3. توچٸ، د تاریخ پہ رڼا کے او منظوم عقیدت ( پشتو )
Waziristan: Religious, Political and Literary Movements
یاسر پبلی کیشنش لاہور
The Demise of Famous Personalities of Waziristan
احمد پرنٹنگ پریس پشاور
یہ تحقیق ڈاکٹر اے آر داوڑ کے پی ایچ ڈی کے حوالے سے ہے جس میں آپ نے وزیرستان کی علمی و ادبی روایت کا جائزہ لیا ہے۔
یہ تحقیق فاٹا میں شعری روایت کے حوالے سے ہے۔